Best Family Lawyer

Best Family Lawyer آج کل سماجی مسائل اس قدر بڑھ چُکے ہیں کہ تقریباً ہر بالغ شہری کسی نا کسی طرح کی پریشانی سے دوچار ہے۔ ایسی معاشرتی صورتحال میں میں گھریلو جھگڑے عام ہو چکے ہیں۔ قانونی علم نا ہونے کی وجہ سے شوہر اور بیوی دونوں اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ نہیں ہوتے۔ اکثر شوہر حضرات سے سمجھتے ہیں کہ بیوی تو گھر کی باندی ہے ، شوہر جس طرح چاہے اس کو ذلیل کر سکتا ہے۔ جبکہ حقیقت بالکل اسکے برعکس ہے۔ فیملی کورٹ ایکٹ 1964 ایک نہایت طاقتور قانون ہے جو ہر طرح سے بیوی اور اس کے بچوں کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر بیوی اپنے شوہر کے ساتھ نا رہنا چاہے تو صرف دو تین ہفتوں میں بیوی اکیلے عدالت سے طلاق (خلع) لے سکتی ہے چاہے اُس کا شوہر کتنا ہی طاقتور کیوں نا ہو، چاہے شوہر اس کو طلاق نا دینے کی دھمکی دیتا ہو، بلکہ خلع لینا اتنا آسان ہے کہ شوہر اگر عدالت نا بھی آۓ تو دوسری/تیسری پیشی پر یک طرفہ طور ہی عدالت  ڈگری کر دیتی ہے۔ اس لئے اگر شوہر یہ سمجھتا ہے کہ وہ میاں بیوی کے رشتے میں بیوی پر کسی طرح کا ظلم کر سکتا ہے تو وہ انتہائی کم علم ہے۔ آج کل قانون بیوی کو بہت تحفظ دیتا ہے۔ Best family lawyer multan بیوی پر ظلم کی دُوسری سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عورت ہمیشہ یہی سمجھتی ہے کہ اگر وہ عدالت گئی تو وہاں اُس کا شوہر اُسے بہت ذلیل کرائے گا، عدالتوں کے چکر لگوائے گا، بہت پیسہ لگے گا، وغیرہ وغیرہ۔ جبکہ ایسا نہیں ہوتا۔ فیملی کورٹ ایکٹ کی شق نمبر ۱۲۔اے کے مطابق فیملی کیس کا زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کے اندر فیصلہ ہونا چاہئیے۔ اور خلع وغیرہ کا کیس تو ایک ڈیڑھ ماہ کے اندر ہی ڈگری ہو جاتا ہے۔ اکثر اوقات جب میاں بیوی کا کوئی بھی جھگڑا ہوتا ہے تو اسے خاندان کے لوگ آپس میں بیٹھ کر حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ گو کہ یہ ایک بہترین طریقہ ہے لیکن طاقتور شوہر ایسی صُلح کو بڑی کمزور سمجھتا ہے اور چند ہفتوں بعد دوبارہ وہی صُورتحال پیدا ہو جاتی ہے جس کی بُنیادی وجہ ہی قانون کی کم علمی ہے۔ اگر یہی صلح عدالت میں کی جائے تو شوہر کو پتہ ہو گا کہ ایسے معماملات میں عورت کتنی طاقتور ہے اور جب عدالت میں صلح کی جاتی ہے تو باقاعدہ اُس کے آرڈرز ہوتے ہیں، شوہر کو پتہ ہوگا کہ اب آئیندہ اگر دوبارہ یہی حالات پیدا ہُوۓ تو بیوی اُس پر کئی طرح سے حاوی ہے تو یقیناً شوہر دوبارہ ناجائز زیادتی نہیں کرتا۔ Family lawyer in multan یاد رکھیں،! شوہر اور بیوی کا رشتہ ، دُنیا کا سب سے قدیم انسانی رشتہ ہے۔ اس کو کامیاب بنانے کےلئے ضروری ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ عزت و احترام کے ساتھ پیش آئیں۔ اور کوئی جھگڑا اس حد تک پہنچ جائے کہ رشتہ قائم رکھنا ہی ناممکن ہو جائے، تو بھی جلدبازی میں کوئی غلط فیصلہ نہ کریں، بلکہ آخری حل کے طور پر عدالت سے ضرور رجوع کریں، شائد قانونی رگڑا کھا کر ظالم فریق کو عقل آجائے اور دوسرے فریق کو کمزور اور بے آسرا سمجھنے والے کو جب عدالتی رگڑا لگے تو عقل ٹھکانے آجاۓ۔ اور اگر علیحدگی ہی آخری حل ہے تو جیسے شوہر کو طلاق کا حق حاصل ہوتا ہے اور وہ جس وقت چاہے اس حق کا استعمال کر سکتا ہے، اسی طرح قانون عورت کو بھی حق دیتا ہے کہ اگر اُس کا شوہر اپنی بیوی کے جائز اور شرعی حقوق ادا نہ کر رہا ہو، اُس کی عزت اور جائز آسائش کا احساس نہ کرے تو بیوی بھی جس وقت چاہے، بھلے شوہر کسی صورت بیوی کو طلاق نہ دینے کی دھمکی دیتا ہو، بیوی بذریعہ عدالت، تین چار ہفتوں میں ہی خلع لے سکتی ہے، بھلے شوہر عدالت آئے یا نہ آۓ۔  
Open chat
Need Help? Whatsapp here
..پوچھیں
ہم کیسے آپ کی مدد کر سکتے ہیں؟