شوہر اور بیوی کا رشتہ ، دُنیا کا سب سے قدیم انسانی رشتہ ہے۔ اس کو کامیاب بنانے کےلئے ضروری ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ عزت و احترام کے ساتھ پیش آئیں۔
اگر کوئی جھگڑا اس حد تک پہنچ جائے کہ رشتہ قائم رکھنا ہی ناممکن ہو جائے، تو بھی جلدبازی میں کوئی غلط فیصلہ نہ کریں، بلکہ آخری حل کے طور پر عدالت سے ضرور رجوع کریں، شائد قانونی رگڑا کھا کر ظالم فریق کو عقل آجائے اور دوسرے فریق کو کمزور اور بے آسرا سمجھنے والے کو جب عدالتی رگڑا لگے تو عقل ٹھکانے آجاۓ۔ اور اگر علیحدگی ہی آخری حل ہے تو جیسے شوہر کو طلاق کا حق حاصل ہوتا ہے اور وہ جس وقت چاہے اس حق کا استعمال کر سکتا ہے، اسی طرح قانون عورت کو بھی حق دیتا ہے کہ اگر اُس کا شوہر اپنی بیوی کے جائز اور شرعی حقوق ادا نہ کر رہا ہو، اُس کی عزت اور جائز آسائش کا احساس نہ کرے تو بیوی بھی جس وقت چاہے، بھلے شوہر کسی صورت بیوی کو طلاق نہ دینے کی دھمکی دیتا ہو، بیوی بذریعہ عدالت، تین چار ہفتوں میں ہی خلع لے سکتی ہے، بھلے شوہر عدالت آئے یا نہ آۓ!۔
اگر کوئی جھگڑا اس حد تک پہنچ جائے کہ رشتہ قائم رکھنا ہی ناممکن ہو جائے، تو بھی جلدبازی میں کوئی غلط فیصلہ نہ کریں، بلکہ آخری حل کے طور پر عدالت سے ضرور رجوع کریں، شائد قانونی رگڑا کھا کر ظالم فریق کو عقل آجائے اور دوسرے فریق کو کمزور اور بے آسرا سمجھنے والے کو جب عدالتی رگڑا لگے تو عقل ٹھکانے آجاۓ۔ اور اگر علیحدگی ہی آخری حل ہے تو جیسے شوہر کو طلاق کا حق حاصل ہوتا ہے اور وہ جس وقت چاہے اس حق کا استعمال کر سکتا ہے، اسی طرح قانون عورت کو بھی حق دیتا ہے کہ اگر اُس کا شوہر اپنی بیوی کے جائز اور شرعی حقوق ادا نہ کر رہا ہو، اُس کی عزت اور جائز آسائش کا احساس نہ کرے تو بیوی بھی جس وقت چاہے، بھلے شوہر کسی صورت بیوی کو طلاق نہ دینے کی دھمکی دیتا ہو، بیوی بذریعہ عدالت، تین چار ہفتوں میں ہی خلع لے سکتی ہے، بھلے شوہر عدالت آئے یا نہ آۓ!۔